النور 24:43 الم تر ان الله يزجي سحابا ثم يولف بينه ثم يجعله ركاما فترى الودق يخرج من خلاله وينزل من السماء من جبال فيها من برد فيصيب به من يشاء ويصرفه عن من يشاء يكاد سنا برقه يذهب بالابصار ٤٣
اَلَمْ
تَرَ
اَنَّ
اللّٰهَ
یُزْجِیْ
سَحَابًا
ثُمَّ
یُؤَلِّفُ
بَیْنَهٗ
ثُمَّ
یَجْعَلُهٗ
رُكَامًا
فَتَرَی
الْوَدْقَ
یَخْرُجُ
مِنْ
خِلٰلِهٖ ۚ
وَیُنَزِّلُ
مِنَ
السَّمَآءِ
مِنْ
جِبَالٍ
فِیْهَا
مِنْ
بَرَدٍ
فَیُصِیْبُ
بِهٖ
مَنْ
یَّشَآءُ
وَیَصْرِفُهٗ
عَنْ
مَّنْ
یَّشَآءُ ؕ
یَكَادُ
سَنَا
بَرْقِهٖ
یَذْهَبُ
بِالْاَبْصَارِ
۟ؕ
وللہ ملک السموت والارض ج والی اللہ المصیر ” “۔ لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی تمام تر تو جہات اس کی طرف کردیں۔ اس کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے عذاب سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں ہے اور سب نے اسی کی طرف جانا ہے۔
اب اس کائنات کے مناظر میں سے ایک دوسرا منظر۔ لوگ رات اور دن اس منظر کو دیکھتے ہیں اور غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں ‘ حالانکہ یہ منظر دامن نظر کو پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہے کہ ذرا دیکھو تو سہی ‘ دل میں سوچو تو سہی ‘ اللہ کی نشانیوں اور اس کی تخلیقات میں غور تو کرو۔ دلائل نور اور دلائل ہدایت پر غور تو کرو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بادل مرحلہ وار ٭٭…
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں
بادل مرحلہ وار ٭٭…
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان می