النور 24:44 يقلب الله الليل والنهار ان في ذالك لعبرة لاولي الابصار ٤٤
یُقَلِّبُ
اللّٰهُ
الَّیْلَ
وَالنَّهَارَ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَعِبْرَةً
لِّاُولِی
الْاَبْصَارِ
۟
(الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔۔ بالابصار) (43) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے ‘ پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے ‘ پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے ‘ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے ‘ ان پہاڑروں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے ‘ پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے “۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بادل مرحلہ وار ٭٭…
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں
بادل مرحلہ وار ٭٭…
پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الٰہی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان می