الرعد 13:13 ويسبح الرعد بحمده والملايكة من خيفته ويرسل الصواعق فيصيب بها من يشاء وهم يجادلون في الله وهو شديد المحال ١٣
وَیُسَبِّحُ
الرَّعْدُ
بِحَمْدِهٖ
وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ
مِنْ
خِیْفَتِهٖ ۚ
وَیُرْسِلُ
الصَّوَاعِقَ
فَیُصِیْبُ
بِهَا
مَنْ
یَّشَآءُ
وَهُمْ
یُجَادِلُوْنَ
فِی
اللّٰهِ ۚ
وَهُوَ
شَدِیْدُ
الْمِحَالِ
۟ؕ
بادلوں کی گرج اُس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے1 اور فرشتے اُس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اُس کی تسبیح کرتے ہیں۔2 وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسا اوقات)اُنہیں جس پر چاہتا ہے عین اس حالت میں گرا دیتا ہے جب کہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہے۔3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بجلی کر گرج ٭٭…
بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قر
بجلی کر گرج ٭٭…
بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت