الرعد 13:35 ۞ مثل الجنة التي وعد المتقون تجري من تحتها الانهار اكلها دايم وظلها تلك عقبى الذين اتقوا وعقبى الكافرين النار ٣٥
مَثَلُ
الْجَنَّةِ
الَّتِیْ
وُعِدَ
الْمُتَّقُوْنَ ؕ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ؕ
اُكُلُهَا
دَآىِٕمٌ
وَّظِلُّهَا ؕ
تِلْكَ
عُقْبَی
الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا ۖۗ
وَّعُقْبَی
الْكٰفِرِیْنَ
النَّارُ
۟
اس جنت کی صفت، جس کا وعده پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوه ہمیشگی واﻻ ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا1 ، اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافر موت مانگیں گے ٭٭…
کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ” وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں “۔
ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول
کافر موت مانگیں گے ٭٭…
کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ ” وہ مومنوں کے ہاتھوں