الرعد 13:4 وفي الارض قطع متجاورات وجنات من اعناب وزرع ونخيل صنوان وغير صنوان يسقى بماء واحد ونفضل بعضها على بعض في الاكل ان في ذالك لايات لقوم يعقلون ٤
وَفِی
الْاَرْضِ
قِطَعٌ
مُّتَجٰوِرٰتٌ
وَّجَنّٰتٌ
مِّنْ
اَعْنَابٍ
وَّزَرْعٌ
وَّنَخِیْلٌ
صِنْوَانٌ
وَّغَیْرُ
صِنْوَانٍ
یُّسْقٰی
بِمَآءٍ
وَّاحِدٍ ۫
وَنُفَضِّلُ
بَعْضَهَا
عَلٰی
بَعْضٍ
فِی
الْاُكُلِ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّقَوْمٍ
یَّعْقِلُوْنَ
۟
اور زمین میں قطعات ہیں ایک دوسرے سے متصل اور باغات انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت جڑوں سے ملے ہوئے بھی اور الگ الگ بھی انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے (اس کے باوجود) ہم کسی کو کسی پر فضیلت دے دیتے ہیں ذائقے میں یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عالم سفلی کے انواع و اقسام ٭٭…
اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل و صورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل
عالم سفلی کے انواع و اقسام ٭٭…
اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔