الرعد 13:40 وان ما نرينك بعض الذي نعدهم او نتوفينك فانما عليك البلاغ وعلينا الحساب ٤٠
وَاِنْ
مَّا
نُرِیَنَّكَ
بَعْضَ
الَّذِیْ
نَعِدُهُمْ
اَوْ
نَتَوَفَّیَنَّكَ
فَاِنَّمَا
عَلَیْكَ
الْبَلٰغُ
وَعَلَیْنَا
الْحِسَابُ
۟
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭…
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ “ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭…
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے