الرعد 13:41 اولم يروا انا ناتي الارض ننقصها من اطرافها والله يحكم لا معقب لحكمه وهو سريع الحساب ٤١
اَوَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّا
نَاْتِی
الْاَرْضَ
نَنْقُصُهَا
مِنْ
اَطْرَافِهَا ؕ
وَاللّٰهُ
یَحْكُمُ
لَا
مُعَقِّبَ
لِحُكْمِهٖ ؕ
وَهُوَ
سَرِیْعُ
الْحِسَابِ
۟
کیا وه نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں1 ، اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے واﻻ نہیں2، وه جلد حساب لینے واﻻ ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭…
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ “ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭…
” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے