الرعد 13:5 ۞ وان تعجب فعجب قولهم ااذا كنا ترابا اانا لفي خلق جديد اولايك الذين كفروا بربهم واولايك الاغلال في اعناقهم واولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ٥
وَاِنْ
تَعْجَبْ
فَعَجَبٌ
قَوْلُهُمْ
ءَاِذَا
كُنَّا
تُرٰبًا
ءَاِنَّا
لَفِیْ
خَلْقٍ
جَدِیْدٍ ؕ۬
اُولٰٓىِٕكَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
بِرَبِّهِمْ ۚ
وَاُولٰٓىِٕكَ
الْاَغْلٰلُ
فِیْۤ
اَعْنَاقِهِمْ ۚ
وَاُولٰٓىِٕكَ
اَصْحٰبُ
النَّارِ ۚ
هُمْ
فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ
۟
اگر تمہیں تعجب کرنا ہے ، تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عقل کے اندھے ضدی لوگ ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہ
عقل کے اندھے ضدی لوگ ٭٭…
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ ک