الرعد 13:6 ويستعجلونك بالسيية قبل الحسنة وقد خلت من قبلهم المثلات وان ربك لذو مغفرة للناس على ظلمهم وان ربك لشديد العقاب ٦
وَیَسْتَعْجِلُوْنَكَ
بِالسَّیِّئَةِ
قَبْلَ
الْحَسَنَةِ
وَقَدْ
خَلَتْ
مِنْ
قَبْلِهِمُ
الْمَثُلٰتُ ؕ
وَاِنَّ
رَبَّكَ
لَذُوْ
مَغْفِرَةٍ
لِّلنَّاسِ
عَلٰی
ظُلْمِهِمْ ۚ
وَاِنَّ
رَبَّكَ
لَشَدِیْدُ
الْعِقَابِ
۟
اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں1 ، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی2۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منکرین قیامت ٭٭…
یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ ”اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے؟“ کہتے تھے کہ ”اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا؟“
اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ ” فرشتے حق کے
منکرین قیامت ٭٭…
یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ ”اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے؟“ کہتے تھے کہ ”اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے