الروم 30:33 واذا مس الناس ضر دعوا ربهم منيبين اليه ثم اذا اذاقهم منه رحمة اذا فريق منهم بربهم يشركون ٣٣
وَاِذَا
مَسَّ
النَّاسَ
ضُرٌّ
دَعَوْا
رَبَّهُمْ
مُّنِیْبِیْنَ
اِلَیْهِ
ثُمَّ
اِذَاۤ
اَذَاقَهُمْ
مِّنْهُ
رَحْمَةً
اِذَا
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمْ
بِرَبِّهِمْ
یُشْرِكُوْنَ
۟ۙ
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔
«لِيَكْفُرُو
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی ع