الروم 30:36 واذا اذقنا الناس رحمة فرحوا بها وان تصبهم سيية بما قدمت ايديهم اذا هم يقنطون ٣٦
وَاِذَاۤ
اَذَقْنَا
النَّاسَ
رَحْمَةً
فَرِحُوْا
بِهَا ؕ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
اِذَا
هُمْ
یَقْنَطُوْنَ
۟
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں “۔
«لِيَكْفُرُو
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ” دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی ع