الروم 30:39 وما اتيتم من ربا ليربو في اموال الناس فلا يربو عند الله وما اتيتم من زكاة تريدون وجه الله فاولايك هم المضعفون ٣٩
وَمَاۤ
اٰتَیْتُمْ
مِّنْ
رِّبًا
لِّیَرْبُوَاۡ
فِیْۤ
اَمْوَالِ
النَّاسِ
فَلَا
یَرْبُوْا
عِنْدَ
اللّٰهِ ۚ
وَمَاۤ
اٰتَیْتُمْ
مِّنْ
زَكٰوةٍ
تُرِیْدُوْنَ
وَجْهَ
اللّٰهِ
فَاُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْمُضْعِفُوْنَ
۟
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا1 ۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭…
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔
مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہو
صلہ رحمی کی تاکید ٭٭…
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت ن