الروم 30:42 قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثرهم مشركين ٤٢
قُلْ
سِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَانْظُرُوْا
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلُ ؕ
كَانَ
اَكْثَرُهُمْ
مُّشْرِكِیْنَ
۟
(اے نبیؐ)ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گُزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭…
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭…
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات