الروم 30:56 وقال الذين اوتوا العلم والايمان لقد لبثتم في كتاب الله الى يوم البعث فهاذا يوم البعث ولاكنكم كنتم لا تعلمون ٥٦
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْعِلْمَ
وَالْاِیْمَانَ
لَقَدْ
لَبِثْتُمْ
فِیْ
كِتٰبِ
اللّٰهِ
اِلٰى
یَوْمِ
الْبَعْثِ ؗ
فَهٰذَا
یَوْمُ
الْبَعْثِ
وَلٰكِنَّكُمْ
كُنْتُمْ
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
اور (اس وقت) کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم اور ایمان عطا کیا گیا تھا کہ تم ٹھہرے ہو اللہ کے فیصلے کے مطابق دوبارہ اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے یوم بعث لیکن تم لوگ تو علم ہی نہیں رکھتے تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
واپسی ناممکن ہو گی ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے “۔
اس سے ان کامقصد یہ ہو گا کہ اتنے تھوڑے سے
واپسی ناممکن ہو گی ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ اوروں ک