الصف 61:5 واذ قال موسى لقومه يا قوم لم توذونني وقد تعلمون اني رسول الله اليكم فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم والله لا يهدي القوم الفاسقين ٥
وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهٖ
یٰقَوْمِ
لِمَ
تُؤْذُوْنَنِیْ
وَقَدْ
تَّعْلَمُوْنَ
اَنِّیْ
رَسُوْلُ
اللّٰهِ
اِلَیْكُمْ ؕ
فَلَمَّا
زَاغُوْۤا
اَزَاغَ
اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الْفٰسِقِیْنَ
۟
اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کج روی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیئے۔ اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ “ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچ
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا