الصافات 37:66 فانهم لاكلون منها فماليون منها البطون ٦٦
فَاِنَّهُمْ
لَاٰكِلُوْنَ
مِنْهَا
فَمَالِـُٔوْنَ
مِنْهَا
الْبُطُوْنَ
۟ؕ
(جہنمی) اسی درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زقوم اور طوبی ٭٭…
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ” اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے “۔
ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔
زقوم اور طوبی ٭٭…
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ” اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا ک