السجدة 32:14 فذوقوا بما نسيتم لقاء يومكم هاذا انا نسيناكم وذوقوا عذاب الخلد بما كنتم تعملون ١٤
فَذُوْقُوْا
بِمَا
نَسِیْتُمْ
لِقَآءَ
یَوْمِكُمْ
هٰذَا ۚ
اِنَّا
نَسِیْنٰكُمْ
وَذُوْقُوْا
عَذَابَ
الْخُلْدِ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
تو اب چکھو مزہ (آگ کا) اس لیے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اب ہم نے بھی تمہیں نظر انداز کردیا ہے پس تم چکھو ہمیشگی کا عذاب اپنے ان کرتوتوں کے سبب جو تم کرتے رہے ہو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہو گئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آو
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ