السجدة 32:27 اولم يروا انا نسوق الماء الى الارض الجرز فنخرج به زرعا تاكل منه انعامهم وانفسهم افلا يبصرون ٢٧
اَوَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّا
نَسُوْقُ
الْمَآءَ
اِلَی
الْاَرْضِ
الْجُرُزِ
فَنُخْرِجُ
بِهٖ
زَرْعًا
تَاْكُلُ
مِنْهُ
اَنْعَامُهُمْ
وَاَنْفُسُهُمْ ؕ
اَفَلَا
یُبْصِرُوْنَ
۟
اور کیا ان لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بےآب وگیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں ؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ کا خط ٭٭…
کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ و بالا کر دیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بے پرواہی کی، اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ کا خط ٭٭…
کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ و بالا کر دی