السجدة 32:3 ام يقولون افتراه بل هو الحق من ربك لتنذر قوما ما اتاهم من نذير من قبلك لعلهم يهتدون ٣
اَمْ
یَقُوْلُوْنَ
افْتَرٰىهُ ۚ
بَلْ
هُوَ
الْحَقُّ
مِنْ
رَّبِّكَ
لِتُنْذِرَ
قَوْمًا
مَّاۤ
اَتٰىهُمْ
مِّنْ
نَّذِیْرٍ
مِّنْ
قَبْلِكَ
لَعَلَّهُمْ
یَهْتَدُوْنَ
۟
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ (نہیں !) بلکہ یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں اس قوم کو جس کے پاس آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ ہدایت پائیں
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
تفسیر سورۃ السجدۃ:…
امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الجمعہ میں حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کی صبح کی نماز میں «الم تنزيل» اور «ہل أتى على الإنسان» الخ پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:891)
مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے سورہ «الم تنزيل السجدة»
تفسیر سورۃ السجدۃ:…
امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الجمعہ میں حدیث وارد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کی صبح کی نماز میں «الم تنزيل