السجدة 32:4 الله الذي خلق السماوات والارض وما بينهما في ستة ايام ثم استوى على العرش ما لكم من دونه من ولي ولا شفيع افلا تتذكرون ٤
اَللّٰهُ
الَّذِیْ
خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَا
فِیْ
سِتَّةِ
اَیَّامٍ
ثُمَّ
اسْتَوٰی
عَلَی
الْعَرْشِ ؕ
مَا
لَكُمْ
مِّنْ
دُوْنِهٖ
مِنْ
وَّلِیٍّ
وَّلَا
شَفِیْعٍ ؕ
اَفَلَا
تَتَذَكَّرُوْنَ
۟
اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ انکے بیچ میں ہے چھ دن کے اندر پھر قائم ہوا عرش پر 1 کوئی نہیں تمہارا اس کے سوائے حمایتی اور نہ سفارشی پھر تم کیا دھیان نہیں کرتے 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے ٭٭…
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گزرچکی ہے۔ مالک و خالق وہی ہے ہرچیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہرچیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے ٭٭…
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گزرچکی ہ