الشعراء 26:155 قال هاذه ناقة لها شرب ولكم شرب يوم معلوم ١٥٥
قَالَ
هٰذِهٖ
نَاقَةٌ
لَّهَا
شِرْبٌ
وَّلَكُمْ
شِرْبُ
یَوْمٍ
مَّعْلُوْمٍ
۟ۚ
صالح ؑ نے کہا : یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک معینّ دن کی باری تمہاری ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ٭٭…
ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اس کی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ٭٭…
ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اس ک