الشعراء 26:44 فالقوا حبالهم وعصيهم وقالوا بعزة فرعون انا لنحن الغالبون ٤٤
فَاَلْقَوْا
حِبَالَهُمْ
وَعِصِیَّهُمْ
وَقَالُوْا
بِعِزَّةِ
فِرْعَوْنَ
اِنَّا
لَنَحْنُ
الْغٰلِبُوْنَ
۟
انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مناظرہ کے بعد مقابلہ ٭٭…
مناظرہ زبانی ہو چکا۔ اب مناظرہ عملاً ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر
مناظرہ کے بعد مقابلہ ٭٭…
مناظرہ زبانی ہو چکا۔ اب مناظرہ عملاً ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ