الشورى 42:22 ترى الظالمين مشفقين مما كسبوا وهو واقع بهم والذين امنوا وعملوا الصالحات في روضات الجنات لهم ما يشاءون عند ربهم ذالك هو الفضل الكبير ٢٢
تَرَی
الظّٰلِمِیْنَ
مُشْفِقِیْنَ
مِمَّا
كَسَبُوْا
وَهُوَ
وَاقِعٌ
بِهِمْ ؕ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
فِیْ
رَوْضٰتِ
الْجَنّٰتِ ۚ
لَهُمْ
مَّا
یَشَآءُوْنَ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ ؕ
ذٰلِكَ
هُوَ
الْفَضْلُ
الْكَبِیْرُ
۟
آپ دیکھیں گے کہ یہ ﻇالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے1 جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں2، اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وه بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وه جو خواہش کریں اپنے رب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل.
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں انہی احکام کے مجموعے کو دین سمجھتے ہیں۔ حلال و حرام کا تعین اپنے ان بڑوں کے کہنے پر کرتے ہیں انہی کے ایجاد کردہ عبادات کے طریقے استعمال کر رہے ہیں اسی
باب…
پھر فرمایا ہے کہ یہ مشرکین دین اللہ کی تو پیروی کرتے نہیں بلکہ جن شیاطین اور انسانوں کو انہوں نے اپنا بڑا سمجھ رکھا ہے یہ جو احکام انہیں بتاتے ہیں