الشورى 42:27 ۞ ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الارض ولاكن ينزل بقدر ما يشاء انه بعباده خبير بصير ٢٧
وَلَوْ
بَسَطَ
اللّٰهُ
الرِّزْقَ
لِعِبَادِهٖ
لَبَغَوْا
فِی
الْاَرْضِ
وَلٰكِنْ
یُّنَزِّلُ
بِقَدَرٍ
مَّا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
بِعِبَادِهٖ
خَبِیْرٌ
بَصِیْرٌ
۟
اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے } لیکن اللہ نازل کرتا ہے ایک اندازے کے مطابق جو چاہتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے باخبر ان کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپنی بد کرداری سے باز آئے اور خلوص کے ساتھ اس کے سامنے جھکے اور سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اپنے رحم و کرم سے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اس کے گناہ معاف فرما د
توبہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان اور اپنا کرم بیان فرماتا ہے کہ وہ اپنے غلاموں پر اس قدر مہربان ہے کہ بد سے بد گنہگار بھی جب اپن