الشورى 42:36 فما اوتيتم من شيء فمتاع الحياة الدنيا وما عند الله خير وابقى للذين امنوا وعلى ربهم يتوكلون ٣٦
فَمَاۤ
اُوْتِیْتُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ
فَمَتَاعُ
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا ۚ
وَمَا
عِنْدَ
اللّٰهِ
خَیْرٌ
وَّاَبْقٰی
لِلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَلٰی
رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ
۟ۚ
سو جو چکھ ملا ہے تمکو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اورجو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔ بلکہ آخرت کی طرف رغبت کرنی چاہیئے نیک اعمال کر کے ثواب جمع کرنا چاہیئے جو سرمدی اور باقی چیز ہے۔ پس فانی کو باقی پر، کمی کو زیادتی پر ت
درگزر کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بے قدری اور اس کی حقارت بیان فرمائی کہ اسے جمع کر کے کسی کو اس پر اترانا نہیں چاہیئے کیونکہ ی