الشورى 42:5 تكاد السماوات يتفطرن من فوقهن والملايكة يسبحون بحمد ربهم ويستغفرون لمن في الارض الا ان الله هو الغفور الرحيم ٥
تَكَادُ
السَّمٰوٰتُ
یَتَفَطَّرْنَ
مِنْ
فَوْقِهِنَّ
وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ
یُسَبِّحُوْنَ
بِحَمْدِ
رَبِّهِمْ
وَیَسْتَغْفِرُوْنَ
لِمَنْ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّ
اللّٰهَ
هُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ
۟
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں1 اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں2۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے.3
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [ 13-الرعد: 9 ] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہ
باب…
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّ