الشورى 42:51 ۞ وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحي باذنه ما يشاء انه علي حكيم ٥١
وَمَا
كَانَ
لِبَشَرٍ
اَنْ
یُّكَلِّمَهُ
اللّٰهُ
اِلَّا
وَحْیًا
اَوْ
مِنْ
وَّرَآئِ
حِجَابٍ
اَوْ
یُرْسِلَ
رَسُوْلًا
فَیُوْحِیَ
بِاِذْنِهٖ
مَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
عَلِیٌّ
حَكِیْمٌ
۟
1 کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبرُو بات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی (اشارے)کے طور پر ہوتی ہے 2 ، یا پردے کے پیچھے سے 3 ، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ)بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، 4 وہ برتر اور حکیم ہے۔ 5
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قرآن حکیم شفا ہے ٭٭…
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپن
قرآن حکیم شفا ہے ٭٭…
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ