الشورى 42:7 وكذالك اوحينا اليك قرانا عربيا لتنذر ام القرى ومن حولها وتنذر يوم الجمع لا ريب فيه فريق في الجنة وفريق في السعير ٧
وَكَذٰلِكَ
اَوْحَیْنَاۤ
اِلَیْكَ
قُرْاٰنًا
عَرَبِیًّا
لِّتُنْذِرَ
اُمَّ
الْقُرٰی
وَمَنْ
حَوْلَهَا
وَتُنْذِرَ
یَوْمَ
الْجَمْعِ
لَا
رَیْبَ
فِیْهِ ؕ
فَرِیْقٌ
فِی
الْجَنَّةِ
وَفَرِیْقٌ
فِی
السَّعِیْرِ
۟
ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ ، یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے 1 تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہرِ مکّہ)اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبر دار کردو، 2 اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو 3 جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ کو جنّت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭…
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر د
قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭…
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل