التغابن 64:4 يعلم ما في السماوات والارض ويعلم ما تسرون وما تعلنون والله عليم بذات الصدور ٤
یَعْلَمُ
مَا
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَیَعْلَمُ
مَا
تُسِرُّوْنَ
وَمَا
تُعْلِنُوْنَ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌۢ
بِذَاتِ
الصُّدُوْرِ
۟
وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تفسیر سورۃ التغابن:تفسیر التغابن ٭٭…
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع]
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و
تفسیر سورۃ التغابن:…
ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی