التغابن 64:6 ذالك بانه كانت تاتيهم رسلهم بالبينات فقالوا ابشر يهدوننا فكفروا وتولوا واستغنى الله والله غني حميد ٦
ذٰلِكَ
بِاَنَّهٗ
كَانَتْ
تَّاْتِیْهِمْ
رُسُلُهُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ
فَقَالُوْۤا
اَبَشَرٌ
یَّهْدُوْنَنَا ؗ
فَكَفَرُوْا
وَتَوَلَّوْا
وَّاسْتَغْنَی
اللّٰهُ ؕ
وَاللّٰهُ
غَنِیٌّ
حَمِیْدٌ
۟
یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول آتے رہے واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ پس انہوں نے کفر کیا اور رُخ پھیرلیا اور اللہ نے بھی (ان سے) بےنیازی اختیار کی۔ اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز ستودہ صفات۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭…
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭…
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہی