التحريم 66:1 يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك تبتغي مرضات ازواجك والله غفور رحيم ١
یٰۤاَیُّهَا
النَّبِیُّ
لِمَ
تُحَرِّمُ
مَاۤ
اَحَلَّ
اللّٰهُ
لَكَ ۚ
تَبْتَغِیْ
مَرْضَاتَ
اَزْوَاجِكَ ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اے نبی ﷺ !) آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں (اپنے اوپر) وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے ؟ آپ ﷺ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی رضا جوئی ! اور اللہ بہت معاف کرنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائ
خلت و حرمت اللہ کے قبضے میں ہے ٭٭…
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں: بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے