التحريم 66:8 يا ايها الذين امنوا توبوا الى الله توبة نصوحا عسى ربكم ان يكفر عنكم سيياتكم ويدخلكم جنات تجري من تحتها الانهار يوم لا يخزي الله النبي والذين امنوا معه نورهم يسعى بين ايديهم وبايمانهم يقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفر لنا انك على كل شيء قدير ٨
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
تُوْبُوْۤا
اِلَی
اللّٰهِ
تَوْبَةً
نَّصُوْحًا ؕ
عَسٰی
رَبُّكُمْ
اَنْ
یُّكَفِّرَ
عَنْكُمْ
سَیِّاٰتِكُمْ
وَیُدْخِلَكُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ۙ
یَوْمَ
لَا
یُخْزِی
اللّٰهُ
النَّبِیَّ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ ۚ
نُوْرُهُمْ
یَسْعٰی
بَیْنَ
اَیْدِیْهِمْ
وَبِاَیْمَانِهِمْ
یَقُوْلُوْنَ
رَبَّنَاۤ
اَتْمِمْ
لَنَا
نُوْرَنَا
وَاغْفِرْ
لَنَا ۚ
اِنَّكَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
اے اہل ایمان ! توبہ کرو اللہ کی جناب میں خالص توبہ۔ امید ہے تمہارا رب تم سے تمہاری برائیوں کو دور کردے گا اور تمہیں داخل کرے گا ایسے باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جس دن اللہ اپنے نبی ﷺ کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ (اُس دن) ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرفوہ کہتے ہوں گے : اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے اور تو ہمیں بخش دے یقینا تو ہر شے پر قادر ہے۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
خالص توبہ ٭٭…
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے“ ۔
خالص توبہ ٭٭…
سلف فرماتے ہیں ”توبہ خالص یہ ہے کہ گناہ کو اس وقت چھوڑ دے، جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر گنا