التوبة 9:101 وممن حولكم من الاعراب منافقون ومن اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم ١٠١
وَمِمَّنْ
حَوْلَكُمْ
مِّنَ
الْاَعْرَابِ
مُنٰفِقُوْنَ ۛؕ
وَمِنْ
اَهْلِ
الْمَدِیْنَةِ ؔۛ۫
مَرَدُوْا
عَلَی
النِّفَاقِ ۫
لَا
تَعْلَمُهُمْ ؕ
نَحْنُ
نَعْلَمُهُمْ ؕ
سَنُعَذِّبُهُمْ
مَّرَّتَیْنِ
ثُمَّ
یُرَدُّوْنَ
اِلٰی
عَذَابٍ
عَظِیْمٍ
۟ۚ
اور جو تمہارے آس پاس کے بادیہ نشین ہیں ان میں منافق بھی ہیں
اعلیٰ ترین مراتب والے اصحاب کے ذکر کے بعد اب بالکل نچلی سطح کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اہل مدینہ میں بھی جو نفاق پر اڑ چکے ہیں آپ ﷺ انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں۔ ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ لوٹا دیے جائیں گے ایک بہت بڑے عذاب کی طرف
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقت کے خوگر شہری ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہا ہے کہ عرب کے قبائل میں جو مدینہ کے اطراف میں رہتے ہیں بعض منافق ہیں اور خود مدینہ کے رہنےوالے بعض مسلمان بھی درحقیقت منافق ہیں کہ اپنے نفاق کو لیے چل رہے ہیں اور منافقت سے باز نہیں آتے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے شیطان مریدو مارد
منافقت کے خوگر شہری ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہا ہے کہ عرب کے قبائل میں جو مدینہ کے اطراف میں رہتے ہیں بعض منافق ہیں اور