التوبة 9:113 ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولي قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحاب الجحيم ١١٣
مَا
كَانَ
لِلنَّبِیِّ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اَنْ
یَّسْتَغْفِرُوْا
لِلْمُشْرِكِیْنَ
وَلَوْ
كَانُوْۤا
اُولِیْ
قُرْبٰی
مِنْ
بَعْدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَهُمْ
اَنَّهُمْ
اَصْحٰبُ
الْجَحِیْمِ
۟
نبی ﷺ اور اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ استغفار کریں مشرکین کے لیے خواہ وہ ان کے قرابت دارہی ہوں اس کے بعد جبکہ ان پر واضح ہوچکا کہ وہ لوگ جہنمی ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ