التوبة 9:114 وما كان استغفار ابراهيم لابيه الا عن موعدة وعدها اياه فلما تبين له انه عدو لله تبرا منه ان ابراهيم لاواه حليم ١١٤
وَمَا
كَانَ
اسْتِغْفَارُ
اِبْرٰهِیْمَ
لِاَبِیْهِ
اِلَّا
عَنْ
مَّوْعِدَةٍ
وَّعَدَهَاۤ
اِیَّاهُ ۚ
فَلَمَّا
تَبَیَّنَ
لَهٗۤ
اَنَّهٗ
عَدُوٌّ
لِّلّٰهِ
تَبَرَّاَ
مِنْهُ ؕ
اِنَّ
اِبْرٰهِیْمَ
لَاَوَّاهٌ
حَلِیْمٌ
۟
اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑ کا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا اور جب آپ ؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ ؑ نے اس سے اعلان بیزاری کردیا۔ یقیناً ابراہیم ؑ بہت درد دل رکھنے والے اور حلیم الطبع تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭…
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ