التوبة 9:118 وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى اذا ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجا من الله الا اليه ثم تاب عليهم ليتوبوا ان الله هو التواب الرحيم ١١٨
وَّعَلَی
الثَّلٰثَةِ
الَّذِیْنَ
خُلِّفُوْا ؕ
حَتّٰۤی
اِذَا
ضَاقَتْ
عَلَیْهِمُ
الْاَرْضُ
بِمَا
رَحُبَتْ
وَضَاقَتْ
عَلَیْهِمْ
اَنْفُسُهُمْ
وَظَنُّوْۤا
اَنْ
لَّا
مَلْجَاَ
مِنَ
اللّٰهِ
اِلَّاۤ
اِلَیْهِ ؕ
ثُمَّ
تَابَ
عَلَیْهِمْ
لِیَتُوْبُوْا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
هُوَ
التَّوَّابُ
الرَّحِیْمُ
۟۠
اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُنہیں زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کے جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں۔ اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔
کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر
باب…
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔
کہتے ہیں کہ