التوبة 9:12 وان نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم وطعنوا في دينكم فقاتلوا ايمة الكفر انهم لا ايمان لهم لعلهم ينتهون ١٢
وَاِنْ
نَّكَثُوْۤا
اَیْمَانَهُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
عَهْدِهِمْ
وَطَعَنُوْا
فِیْ
دِیْنِكُمْ
فَقَاتِلُوْۤا
اَىِٕمَّةَ
الْكُفْرِ ۙ
اِنَّهُمْ
لَاۤ
اَیْمَانَ
لَهُمْ
لَعَلَّهُمْ
یَنْتَهُوْنَ
۟
اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کُفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو ٭٭…
اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ”جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے ا
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو ٭٭…
اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر