التوبة 9:122 ۞ وما كان المومنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طايفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون ١٢٢
وَمَا
كَانَ
الْمُؤْمِنُوْنَ
لِیَنْفِرُوْا
كَآفَّةً ؕ
فَلَوْلَا
نَفَرَ
مِنْ
كُلِّ
فِرْقَةٍ
مِّنْهُمْ
طَآىِٕفَةٌ
لِّیَتَفَقَّهُوْا
فِی
الدِّیْنِ
وَلِیُنْذِرُوْا
قَوْمَهُمْ
اِذَا
رَجَعُوْۤا
اِلَیْهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَحْذَرُوْنَ
۟۠
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تنہا نہ چھوڑو ٭٭…
اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
جیسے فرمایا «اِن
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تنہا نہ چھوڑو ٭٭…
اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے کے متعل