التوبة 9:126 اولا يرون انهم يفتنون في كل عام مرة او مرتين ثم لا يتوبون ولا هم يذكرون ١٢٦
اَوَلَا
یَرَوْنَ
اَنَّهُمْ
یُفْتَنُوْنَ
فِیْ
كُلِّ
عَامٍ
مَّرَّةً
اَوْ
مَرَّتَیْنِ
ثُمَّ
لَا
یَتُوْبُوْنَ
وَلَا
هُمْ
یَذَّكَّرُوْنَ
۟
اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں1 پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے، کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ ب
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا ٭٭…
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضرور وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔