التوبة 9:19 ۞ اجعلتم سقاية الحاج وعمارة المسجد الحرام كمن امن بالله واليوم الاخر وجاهد في سبيل الله لا يستوون عند الله والله لا يهدي القوم الظالمين ١٩
اَجَعَلْتُمْ
سِقَایَةَ
الْحَآجِّ
وَعِمَارَةَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ
كَمَنْ
اٰمَنَ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ
وَجٰهَدَ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
لَا
یَسْتَوٗنَ
عِنْدَ
اللّٰهِ ؕ
وَاللّٰهُ
لَا
یَهْدِی
الْقَوْمَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۘ
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟1 اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت بہتر ہے ایمان و جہاد سے۔ ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔
اللہ نے ان کا فخر و غرور اور حق سے تکبر اور
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے