التوبة 9:30 وقالت اليهود عزير ابن الله وقالت النصارى المسيح ابن الله ذالك قولهم بافواههم يضاهيون قول الذين كفروا من قبل قاتلهم الله انى يوفكون ٣٠
وَقَالَتِ
الْیَهُوْدُ
عُزَیْرُ
بْنُ
اللّٰهِ
وَقَالَتِ
النَّصٰرَی
الْمَسِیْحُ
ابْنُ
اللّٰهِ ؕ
ذٰلِكَ
قَوْلُهُمْ
بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ
یُضَاهِـُٔوْنَ
قَوْلَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
قَبْلُ ؕ
قَاتَلَهُمُ
اللّٰهُ ؗۚ
اَنّٰی
یُؤْفَكُوْنَ
۟
اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے 1 اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی 2 ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ٭٭…
ان آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں سے یہودیوں، نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں؟ یہود عزیر کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ ا
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ٭٭…
ان آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں سے یہودیوں، نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے