التوبة 9:32 يريدون ان يطفيوا نور الله بافواههم ويابى الله الا ان يتم نوره ولو كره الكافرون ٣٢
یُرِیْدُوْنَ
اَنْ
یُّطْفِـُٔوْا
نُوْرَ
اللّٰهِ
بِاَفْوَاهِهِمْ
وَیَاْبَی
اللّٰهُ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّتِمَّ
نُوْرَهٗ
وَلَوْ
كَرِهَ
الْكٰفِرُوْنَ
۟
یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں) سے اور اللہ کو ہرگز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭…
فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر لو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح یہ لوگ بھی اللہ کے نور کے بجھانے کی چاہت می
کفارہ کی دلی مذموم خواہش ٭٭…
فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ اللہ کا نور بجھا دیں ہدایتِ ربانی اور دینِ حق کو مٹا دیں تو خیال کر