التوبة 9:34 ۞ يا ايها الذين امنوا ان كثيرا من الاحبار والرهبان لياكلون اموال الناس بالباطل ويصدون عن سبيل الله والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب اليم ٣٤
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا
اِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
الْاَحْبَارِ
وَالرُّهْبَانِ
لَیَاْكُلُوْنَ
اَمْوَالَ
النَّاسِ
بِالْبَاطِلِ
وَیَصُدُّوْنَ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
وَالَّذِیْنَ
یَكْنِزُوْنَ
الذَّهَبَ
وَالْفِضَّةَ
وَلَا
یُنْفِقُوْنَهَا
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ۙ
فَبَشِّرْهُمْ
بِعَذَابٍ
اَلِیْمٍ
۟ۙ
اے ایمان والو بہت سے عالم اور درویش اہل کتاب کے کھاتے ہیں مال لوگوں کے ناحق اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے 1 اور جو لوگ گاڑھ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسکو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو انکو خوشخبری سنا دے عذاب دردناک کی 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں