التوبة 9:46 ۞ ولو ارادوا الخروج لاعدوا له عدة ولاكن كره الله انبعاثهم فثبطهم وقيل اقعدوا مع القاعدين ٤٦
وَلَوْ
اَرَادُوا
الْخُرُوْجَ
لَاَعَدُّوْا
لَهٗ
عُدَّةً
وَّلٰكِنْ
كَرِهَ
اللّٰهُ
انْۢبِعَاثَهُمْ
فَثَبَّطَهُمْ
وَقِیْلَ
اقْعُدُوْا
مَعَ
الْقٰعِدِیْنَ
۟
اگر ان کا اراده جہاد کے لئے نکلنے کا ہوتا تو وه اس سفر کے لئے سامان کی تیاری کر رکھتے1 لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں حرکت سے ہی روک دیا2 اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہی رہو۔3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭…
یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گزرنے پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان
غلط گو غلط کار کفار و منافق ٭٭…
یہ عذر کرتے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کر لیت