التوبة 9:55 فلا تعجبك اموالهم ولا اولادهم انما يريد الله ليعذبهم بها في الحياة الدنيا وتزهق انفسهم وهم كافرون ٥٥
فَلَا
تُعْجِبْكَ
اَمْوَالُهُمْ
وَلَاۤ
اَوْلَادُهُمْ ؕ
اِنَّمَا
یُرِیْدُ
اللّٰهُ
لِیُعَذِّبَهُمْ
بِهَا
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَتَزْهَقَ
اَنْفُسُهُمْ
وَهُمْ
كٰفِرُوْنَ
۟
تو (اے نبی ﷺ !) آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ٭٭…
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ، ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لیے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم مؤخر ہے ی
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ٭٭…
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ، ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی