التوبة 9:6 وان احد من المشركين استجارك فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه مامنه ذالك بانهم قوم لا يعلمون ٦
وَاِنْ
اَحَدٌ
مِّنَ
الْمُشْرِكِیْنَ
اسْتَجَارَكَ
فَاَجِرْهُ
حَتّٰی
یَسْمَعَ
كَلٰمَ
اللّٰهِ
ثُمَّ
اَبْلِغْهُ
مَاْمَنَهٗ ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
قَوْمٌ
لَّا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠
اور اگر کوئی مشرک تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پنادہ دیدے یاں تک کہ وہ سن لے کلام اللہ کا پھر پہنچا دے اسکو اسکی امن کی جگہ یہ اس واسطے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن مار دو ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کر دیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے، آپ صلی اللہ علیہ وسل
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن مار دو ٭٭…
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد