التوبة 9:60 ۞ انما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمولفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم ٦٠
اِنَّمَا
الصَّدَقٰتُ
لِلْفُقَرَآءِ
وَالْمَسٰكِیْنِ
وَالْعٰمِلِیْنَ
عَلَیْهَا
وَالْمُؤَلَّفَةِ
قُلُوْبُهُمْ
وَفِی
الرِّقَابِ
وَالْغٰرِمِیْنَ
وَفِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
وَابْنِ
السَّبِیْلِ ؕ
فَرِیْضَةً
مِّنَ
اللّٰهِ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ
۟
صدقے صرف فقیروں1 کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے2، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے؟ ٭٭…
اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ
زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے؟ ٭٭…
اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول صلی اللہ علیہ