التوبة 9:64 يحذر المنافقون ان تنزل عليهم سورة تنبيهم بما في قلوبهم قل استهزيوا ان الله مخرج ما تحذرون ٦٤
یَحْذَرُ
الْمُنٰفِقُوْنَ
اَنْ
تُنَزَّلَ
عَلَیْهِمْ
سُوْرَةٌ
تُنَبِّئُهُمْ
بِمَا
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ ؕ
قُلِ
اسْتَهْزِءُوْا ۚ
اِنَّ
اللّٰهَ
مُخْرِجٌ
مَّا
تَحْذَرُوْنَ
۟
یہ منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کو ہمارے دلوں کی حالت بتادے آپ ﷺ کہیے کہ ابھی تم استہزاء کرتے رہو یقیناً (ایک وقت آئے گا کہ) اللہ ظاہر کر کے رہے گا جس سے تم ڈر رہے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراتے بھی ہیں ٭٭…
آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہو جائے،
اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراتے بھی ہیں ٭٭…
آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں ک