التوبة 9:7 كيف يكون للمشركين عهد عند الله وعند رسوله الا الذين عاهدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ان الله يحب المتقين ٧
كَیْفَ
یَكُوْنُ
لِلْمُشْرِكِیْنَ
عَهْدٌ
عِنْدَ
اللّٰهِ
وَعِنْدَ
رَسُوْلِهٖۤ
اِلَّا
الَّذِیْنَ
عٰهَدْتُّمْ
عِنْدَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ ۚ
فَمَا
اسْتَقَامُوْا
لَكُمْ
فَاسْتَقِیْمُوْا
لَهُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُتَّقِیْنَ
۟
In mushrikeen ke liye Allah aur uske Rasool ke nazdeek koi ahad aakhir kaise ho sakta hai? Bajuz un logon ke jinsey tumne masjid e haraam ke paas muhaida kiya tha, to jab tak woh tumhare saath seedhe rahein tum bhi unke saath seedhe raho kyunke Allah muttaqiyon ko pasand karta hai
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پابندی عہد کی شرائط ٭٭…
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے والے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔
یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی، ماہ ذی
پابندی عہد کی شرائط ٭٭…
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑنے