التوبة 9:74 يحلفون بالله ما قالوا ولقد قالوا كلمة الكفر وكفروا بعد اسلامهم وهموا بما لم ينالوا وما نقموا الا ان اغناهم الله ورسوله من فضله فان يتوبوا يك خيرا لهم وان يتولوا يعذبهم الله عذابا اليما في الدنيا والاخرة وما لهم في الارض من ولي ولا نصير ٧٤
یَحْلِفُوْنَ
بِاللّٰهِ
مَا
قَالُوْا ؕ
وَلَقَدْ
قَالُوْا
كَلِمَةَ
الْكُفْرِ
وَكَفَرُوْا
بَعْدَ
اِسْلَامِهِمْ
وَهَمُّوْا
بِمَا
لَمْ
یَنَالُوْا ۚ
وَمَا
نَقَمُوْۤا
اِلَّاۤ
اَنْ
اَغْنٰىهُمُ
اللّٰهُ
وَرَسُوْلُهٗ
مِنْ
فَضْلِهٖ ۚ
فَاِنْ
یَّتُوْبُوْا
یَكُ
خَیْرًا
لَّهُمْ ۚ
وَاِنْ
یَّتَوَلَّوْا
یُعَذِّبْهُمُ
اللّٰهُ
عَذَابًا
اَلِیْمًا ۙ
فِی
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةِ ۚ
وَمَا
لَهُمْ
فِی
الْاَرْضِ
مِنْ
وَّلِیٍّ
وَّلَا
نَصِیْرٍ
۟
یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں1 اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے2۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا3، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
چار تلواریں؟ ٭٭…
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ
چار تلواریں؟ ٭٭…
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث